ان کا کالم ’’ڈی جی رینجرز کی رپورٹ نامکمل ہے‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ایک واقعہ سن لیجئے۔ لالوکھیت سے متعلق ہے۔ لالوکھیت کے بازار کا خیال آتے ہی لوگوں سے کھچاکھچ بھری گلیاں، کچھ اجلے میلے لوگ، چلتے ہوئے فقرے، دوکانوں کے تھڑے اور ان پر بیٹھے ہنستے بولتے سیلزمین اور ملازمین یاد آتے چلے جاتے ہیں۔ جن میں توصیف کا جواب نہیں تھا۔ صبح کا وقت تھا بازار میں اکادکا گاہک تھے۔ توصیف نے بازار میں ایک مری ہوئی چوہیا پڑی دیکھی تو ایک بڑا سا خاکی لفافہ لیا۔ چوہیا اس میں ڈالی اور بیچ بازار میں رکھ دیا۔ ایک خاتون نے لفافہ دیکھا تو جھٹ اٹھا تیزی سے اگے بڑھ گئیں۔ ذرا دور جاکر انہوں نے چمکتی آنکھوں اور بڑی اشتہا کے ساتھ لفافہ کھولا۔ اندر جھانکا تو ان کا منہ سڑ گیا۔ اے ہے اے ہے کہتے انہوں نے لفافہ جلدی سے ایک طرف پھینک دیا۔ تھڑوں پر بیٹھے لوگوں کا ہنستے ہنستے براحال ہوگیا۔ اگلی مرتبہ ایک دوسری خاتون نے دور سے لفافہ تاڑ لیا۔ ان کے ایک ہاتھ میں سبزی کی باسکٹ تھی وہ آہستہ روی سے لفافے کے پاس آئیں باسکٹ لفافے کے برابر رکھی ادھر ادھر محتاط نظروں سے دیکھا اور باسکٹ کے ساتھ ہی لفافہ اٹھایا اور آگے بڑھ گئی چند گز دور چلیں لیکن ان سے برداشت نہیں ہوا۔ لفافہ کھولا۔ غالباً انہیں کم دکھتا تھا۔ لفافہ بالکل ناک سے لگالیا۔ پھر جو انہوں نے چیخ مارکر کراہت سے لفافہ پھینکا ہے لوگ لوٹ پوٹ ہوگئے۔ اشرف بھائی کوسمیٹکس والے شوکیس باہر نکالنے کے لیے دوکان کے اندر گئے تو توصیف نے لفافہ باہر ان کے شیلف پر رکھ دیا۔ وہ باہر آئے۔ لفافہ دیکھا۔ اطمینان سے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا۔ دوکان جھاڑ پونچھ کر ہاتھ منہ دھو چائے کا کپ ہاتھ میں لیتے انہیں لفافے کا خیال آیا۔ لفافہ کھولا، مری ہوئی چوہیاکے بھپکے سے ان کا میٹر خراب ہوگیا۔ انہوں نے چوہیا پھیکی۔ اب جو سب ہنسے ہیں وہ بھانپ گئے پھر جو انہوں نے چوہیا اور ہنسنے والوں کی زنانہ شاخوں کا تعلق قائم کیا، مت پوچھئے کیا حال ہوا۔
صاحبو! جمہوریت کے باب میں ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پرویز مشرف کے نوسالہ دور آمریت کے بعد زرداری صاحب آئے اور اب نوازشریف ۔ ان ادوار میں کتنی چاہت سے جمہوریت کا لفافہ کھولا گیا ہر مرتبہ اندر سے مری ہوئی چوہیا ہی نکلی کرپشن کے بھپکے دیتی۔ لیکن کیا کیا جائے جمہوریت اور کرپشن لازم اور ملزوم ہے۔ جہاں جمہوریت ہوگی وہاں کرپشن بھی ہوگی۔ قانونی ہو یا غیر قانونی۔ پچھلے دنوں ڈی جی رینجرز نے کراچی میں کرپشن کے باب میں انکشاف کیا کہ کراچی میں سالانہ 230 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ کرپشن ایک ایسا جنگل ہے کہ ڈی جی رینجرز کے اس جنگل میں داخل ہونے پر ہمارے منہ سے بے ساختہ نکل گیا:
کس جنگل میں کھوئے
اوئے ہوئے اوئی
ڈی جی رینجرز کے اس ’’انکشاف‘‘ پر برادرم مظفر اعجاز صاحب نے ایک کالم باندھ دیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ 230 ارب روپے بہت کم اور کراچی میں کرپشن کی توہین ہے۔ کراچی میں کرپشن اس سے کہیں سوا ہے۔ اس قدر کہ گنواؤ تو گنوا نہ سکو۔ ڈی جی رینجرز نے منظم کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن وہ غیر منظم کرپشن جو نچلی سطح پر بڑے پر امن طریقے سے چائے پانی کے نام پر جاری ہے کسی یونانی المیے کی طرح طویل اور دردناک ہے۔ بے حد و حساب۔ مظفر اعجاز صاحب نے اپنے کالم میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس میں مزید یہ اضافہ کیا جاسکتا ہے کہ نچلی سطح پر اس غیر منظم کرپشن میں وہ منظم کرپشن بھی شامل ہونی چاہئے جس کا سامنا ہر اس شخص کو ہے جو بازار سے سو روپے کا سامان خریدتا ہے اور اس میں چالیس روپے ٹیکس کے ادا کرتا ہے۔ کسی کو نہیں پتہ کہ اس کا اداکردہ ٹیکس حکومت کے خزانے میں گیا یا پھر کرپشن کی نظر ہوکر ان سرمایہ داروں کی صندوقچیوں میں چلا گیا جن کی نمائندہ نوازشریف حکومت ہے۔ڈی جی رینجرز کی رپورٹ ہو یا کوئی اور رپورٹ اس میں یہ بات تواتر سے دہرائی جاتی ہے کہ مختلف جرائم پیشہ گروہ مختلف سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ لوٹ مار کے کلاسیکی طریقے دم توڑرہے ہیں۔ بھتہ مافیہ، قبضہ گروپ اور دیگر مافیاز اب سیاسی جماعتوں کے ونگز نہیں بلکہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کے فائی نینسر ہیں۔ کراچی میں بعض سیاسی جماعتوں کی سیاست جس پیسے سے فائی نینس ہوتی ہے اس کی ادائیگی یہ مافیاز کرتے ہیں۔ ان مافیاز کا مالیاتی کردار ہی ان جماعتوں کی سیاست کا مزاج، ترجیح اور مفادات کا تعین کرتا ہے۔
اب تک سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہی ہدف اور موضوع بحث رہتے تھے لیکن ڈی جی رینجرز کی رپورٹ کے بعد یہ حقیقت پسندانہ تبدیلی آئی ہے کہ اصل گروہوں پر بات کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مال قبضہ مافیا، بھتہ مافیا، اغوا مافیا، ڈکیت مافیا اور اسی طرح کے دیگر مافیاز سے آتاہے۔ عسکری ونگز ان مافیاز کو محض cover اور تحفظ فراہم کرتاہے اور دہشت اور وحشت کی وہ فضا قائم کرتا ہے جن کے بغیر یہ مافیاز کام نہیں سکتے۔ جہاں تک ان مافیاز کے تحفظ کا سوال تو ان مافیاز کا تحفظ پارٹیوں کے نظریات اور سیاسی شناخت کے ذریعے کیا جاتاہے۔ اس تحفظ کے لیے اقتدار کی ضرورت پڑتی ہے جس کے لیے ہر پارٹی کو انتخابی ونگ بھی قائم کرنا اور فعال رکھنا ہوتا ہے۔ اس انتخابی ونگ کی فعالیت میں بھی دہشت ہی سرگرم کردار ادا کرتی ہے جہاں دہشت زیادہ ہوگی وہاں ووٹ بھی ملیں گے اور سیٹ بھی یقینی ہے۔
کراچی میں جرم اور دہشت یکجا ہوگئے ہیں۔ لینڈ مافیا، اسلحہ مافیا، اسمگلنگ مافیا، منشیات مافیا، پانی مافیا، بھتہ مافیا اور اغوا کاروں نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور بعض دیگر جماعتوں کو اغوا کرلیا ہے۔ ان جماعتوں کی حیثیت ان مافیاز کے یرغمالیوں کی ہے۔ فوجی قیادت نے ان مافیاز کو کراچی کی دہشت گردی سے مربوط کردیا ہے۔ جب تک ان مافیاز کا خاتمہ نہیں ہوتا دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی لیکن خیال رہے یہ مافیاز اور کراچی کی بعض سیاسی جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اس موضوع پر مزیدانشاء اللہ دو چار روز بعد۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
0 comments:
Post a Comment