Wednesday, May 20, 2015

اک ذرا صفورہ گوٹھ تک


سوپ، پلاؤ، بونلیس چکن، چکن گریبی ، سیخ کباب اور میٹھے میں قلفہ۔ جہاں جائیں حکمرانوں کے پرتکلف کھانے موضوع بحث ہیں۔ جسے دیکھئے نمک مرچ لگارہا ہے۔ یہ وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزر کاکمال ہے۔ کھانا سامنے ہو اور کھانا سامنے نہ ہو۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اہل عرب سے ایک حکایت منسوب ہے۔ سنیے
حجاج بن یوسف نے ایک دیہاتی کو کسی دور افتادہ علاقے کا گورنر بناکر بھیجا۔ عرصہ گزرگیا وہ شخص گھر جاسکا اور نہ اسے اپنے اہل خانہ کی کچھ خبر ملی۔ ایک دن اس کے دیہات سے کسی فرد کا وہاں گزرہوا تو گورنرنے اسے کھانے پر مدعو کیا۔مہمان کے سامنے طرح طرح کے کھانے چنے گئے۔ مہمان کو بھوک بھی بہت لگی تھی۔ ابھی مہمان نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ گورنر نے پوچھا ’’میرے بیٹے عمیر کا کیا حال ہے؟‘‘ مہمان نے جواب دیا ’’وہ اس حال میں ہے جیسا آپ چاہتے ہیں۔ زمین اس کی تعریف سے پر ہے۔ (یعنی ہرایک زبان پر اس کی تعریف ہے)۔ گورنر نے کہا ’’عمیر کی ماں کیسی ہے‘‘ مہمان نے جواب دیا’’وہ بھی اسی طرح ہے جیسا آپ گمان رکھتے ہیں‘‘ گورنر نے باقی گھروالوں کا پوچھا۔ کہا’’وہ بھی خیریت سے ہیں‘‘۔ گورنر نے کہا ’’میرے کتے کا کیا حال ہے؟‘‘۔ مہمان نے جواب دیا ’’محلے میں اس کی اواز گونجتی رہتی ہے۔‘‘ گورنرنے پوچھا ’’میرے اونٹ کا کیا حال ہے‘‘ مہمان نے جواب دیا وہ بھی اس حال میں ہے جیسا آپ کو اچھا لگے۔ سوال جواب کے دوران مہمان کو چند لقمے ہی کھانے کا موقع ملا تھاکہ اچانک گورنر نے ملازم سے کہا ’’اس کے آگے سے کھانا اٹھالو۔ یہ گول مول باتیں کررہا ہے۔ کھانا اٹھالیا گیا تو گورنرنے مہمان سے دوبارہ پوچھا ’’میرے کتے کا کیا حال ہے‘‘ مہمان نے کہا مرگیا۔ پوچھا کس چیز سے مرگیا‘‘۔ مہمان نے جواب دیا ’’آپ کے اونٹ کی ہڈی اس کے حلق میں پھنس گئی تھی۔ گورنرنے پریشانی سے پوچھا ’’کیا میرا اونٹ مرگیا‘‘ مہمان نے کہا جی ہاں مرگیا۔ کہا ’’ کس چیز سے مرگیا‘‘ جواب ملا ’’عمیر کی ماں کی قبر تک باربار پانی لے جانے کی کثرت سے۔ گورنرنے غم سے کہا ’’کیا ام عمیر بھی مرگئی‘‘۔ مہان نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔ پوچھا ’’کیسے مرگئی‘‘۔ جواب دیا عمیر کے غم سے۔ گورنر نے غم سے رندھی ہوئی آواز میں دریافت کیا ’’کیا عمیر بھی مرگیا؟‘‘ جواب ملا ’’جی ہاں‘‘ پوچھا ’’کیسے؟‘‘ مہمان نے جواب دیا اس پر گھر گرگیا تھا۔ گورنر مارنے کے لیے اپنے ڈنڈے کی طرف لپکا لیکن اس سے پہلے مہمان بھاگ چکا تھا۔
کھانا سامنے ہو تو منظر خوشگوار لگتاہے۔ پیٹ خالی ہو اور کھانا بھی دسترس میں نہ ہو تو چاند میں بھی روٹی کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ بھوک میں خوشکن جملے تو درکنار خوشگوار خیال بھی قریب نہیں بھٹکتا۔ منظر کتنے ہی دل ہلادینے والے اور اندوہناک ہوں حکمرانوں کے چہروں کی شادابی لذیذ اور مرغن کھانوں سے سیرابی حاصل کرتی ہے۔ تاہم گھر کے صحن میں جنازے بچھے ہوں اور وہ بھی پینتالیس افراد کے تو کھانا کھانا تو درکنار، کھانا دیکھنے کی بھی چاہ نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارے حکمرنوں کا معاملہ جدا ہے۔ وہ ہم پر حکمران ضرور ہیں لیکن وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ عوام اور حکمران دو الگ الگ سیاروں کی مخلوق ہیں۔ صفورہ گوٹھ میں بس پر فائرنگ کی خبر جیسے ہی پھیلی کراچی میں غم اترتا چلا گیا۔ اگلے روز پورا کراچی سوگ میں بندتھا۔ اس بات کی علامت کہ پاکستان میں مسلم غیر مسلم کی تفریق ہے اور نہ فرقہ واریت کی۔ جو واقعات ہوتے ہیں اس میں بیرونی عناصر ملوث ہوتے ہیں۔ صفورہ گوٹھ میں قتل کیے جانے والوں کا تعلق اسماعیلی برادری سے ہے جو بدھ کی صبح بس میں سوار ہوئے ہی تھے کہ چھ دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے پینتالیس افراد کو ہلاک کردیا۔ ان کا لہو آج بھی صفورہ گوٹھ کی فضاؤں سے صدا دے رہاہے۔ آئیے صفورہ گوٹھ چلتے ہیں راستے میں دو اسٹاپ ہیں۔
پہلا اسٹاپ 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کی یادگار ہے۔ اس وقت سرد جنگ عروج پر تھی۔ امریکہ مارکسسٹ کفار کے خلاف اسلامی جہاد کامنصوبہ لے کر میدان میں اترا۔ صدر ریگن کو افغان مجاہدین نے اپنے آباء کی جھلک نظر آنے لگی۔ افغانستان سوویت یونین کا مقتل بن گیا۔ 1989ء تک سوویت یونین کا حوصلہ ختم ہوگیا۔ اسے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ سوویت یونین کا خاتمہ ہوگیا۔ اس معرکہ آرائی میں پاکستان سمیت کسی امریکی مسلمان اتحادی کو یہ خیال نہیں آیا کہ سوویت یونین کے خاتمے سے طاقت کا توازن یکطرفہ طور پر امریکہ کے حق میں جھک جائے گا اور وہ واحد عالمی طاقت بن جائے گا۔
دوسرا اسٹاپ نائن الیون کے واقعے کی یادگار ہے۔ جب دوجہاز ٹکرانے سے امریکی معیشت اور وقار کی علامت ٹوئن ٹاورز منہدم ہوگئے۔ ہزاروں امریکی مارے گئے لیکن اس سے پہلے ہی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ اسلام کو اپنا اگلا ہدف قرار دے چکا تھا۔ نائن الیون کو جواز بناکر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ کل تک جو افغانی مجاہدین تھے اب وہی دہشت گرد قرارپائے۔ جن کا خاتمہ امریکہ اورپاکستان سمیت اسکے اتحادیوں کا مشترکہ مقصد بن گیا۔ پاک افغان سرحد کا حال یہ ہے کہ ایک گھر کے نصف افراد افغانستان میں رہائش پذیر ہیں اور نصف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں۔ جہاں سے افغان طالبان کی مالی جسمانی اور عسکری ہر ممکن مدد کی جاتی تھی۔ افغان طالبان پر قابو پانے کے لیے اس سپلائی لائن کا کاٹنا ضروری تھا جس کے لیے امریکہ نے پاکستان مخالف تحریک طالبان پاکستان کو لانچ کیا۔ جس نے پاکستان میں پھیلی سینکڑوں امریکی تنصیبات میں سے کسی ایک کو نشانہ بنایا اور نہ کسی امریکی شہری کو قتل کیا۔ لیکن پاکستان اور اہل پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔ یوں تحریک طالبان پاکستان کے خاتمے کی آڑ لیکر پاکستان کے اندر آپریشنز شروع کردیے گئے جن ک اصل مقصد ان مجاہدین کا خاتمہ تھا جو امریکہ سے برسرپیکار افغان مجاہدین کی سپلائی لائن اور طاقت تھے۔
نائن الیون کے بعد عالم اسلام کے خلاف امریکی کاروائیوں کی تقلید میں پاکستان میں بھی یہ شعار بنا لیا گیا کہ دہشت گردی کا کوئی انتہائی خوفناک سانحہ پاکستان میں کہیں بھی پیش آتا ہو۔ اس کو جواز بناکر ان مجاہدین کے خلاف جو پاکستان میں افغان طالبان کے مددگار ہیں اور اسلام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ پشاور سانحہ کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت 37 ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ اس واقعہ کے اصل کرداروں کو سامنے لانے کے بجائے پاکستان میں نفاذ اسلام کے داعیوں اور دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کی جارہی ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں ان مجاہدین کی کمر توڑ دی گئی جو پاکستان میں افغان مجاہد ین کے معاون و انصار تھے۔ جواب میں امریکہ کی طرف سے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں خاطرخواہ کمی آگئی۔ تحریک طالبان پاکستان کا پاکستان دشمن کردار محدود اور نچلی ترین سطح پر آگیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے بعد امریکہ سے برسر پیکار مجاہدین کا اگلا پڑاؤ کراچی ہوتا ہے۔ یہ محض سادہ اتفاق نہیں ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف دی آرمی اسٹاف افغانستان تشریف لے گئے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے سامنے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی ایجنسی راء کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے اور یہ طے پایہ کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کرنے دینگے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں حکمران امریکہ اگر چاہے تو بھارتی ایجنسی را کی یہ جرات نہیں ہوسکتی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔ بہرحال دورے سے واپسی کے اگلے ہی روز صفورہ گوٹھ کا واقعہ رونما ہوا۔ جائے حادثہ سے ملنے والے ایک پمفلٹ میں داعش کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی حقیقت میڈیا نے کھول کر رکھ دی۔ دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے پہلی مرتبہ بلند آواز میں بھارت اور را کو ملوث قرار دیا گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھارت کا نام لینے سے ان حکمرانوں کی آواز لڑکھڑانے لگتی تھی۔ یہ ایک اسموک اسکرین تھی لہذا ان الزامات پر بھارت میں بھی کسی خاص ردعمل اور گرمی کا اظہار نہیں کیاگیا۔ بہرحال اس واقعہ کی آڑ  میں اصل مقصد ان مجاہدین کو ٹارگٹ کرنا ہے جو کراچی کو بیس بناکر امریکہ سے جہاد کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کے داعیوں اور دینی مدارس کو۔ ہم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ پاکستان اور فوجی عدالتیں قائم کردیں لیکن جو ان اقدامات کو ناکام بنانے پاکستان کو کمزور کرنے اور دہشتگردی کے واقعات کے اصل محرک امریکہ اور بھارت وہ ہمارے حکمرانوں کے دوست ہی نہیں آقا ہیں جن کے حکم سے سرتابی کی انہیں مجال نہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

0 comments:

Post a Comment