Sunday, April 13, 2014

سب سے بڑی این جی اوز

 خادم اعلی پنجاب میاں شہبازشریف نے پچھلے دنوں فرمایا کہ ہم علم کی کرنیں کونے کونے میں بکھیرنے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کررہے ہیں۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے گورڈن براؤن کی آمد پر وزیراعظم نوازشریف نے فرمایا تھا کہ تعلیم کا بجٹ مجموعی قومی پیداوار کا چار فیصد کردیں گے۔ ملک میں تعلیمی ایرجنسی نافذ کریں گے۔ 67 برس گزر گئے حکمرانوں کے ایسے دعوے سنتے ہوئے لیکن عملی کوششیں دور دور نظر نہیں آتیں حالانکہ جب انسان کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کائنات کی ہر شے اس کے حصول کیلئے انسان کی مدد کرتی ہے۔ تعلیمی حوالے سے دینی مدارس مثال ہیں۔ مولانا بدر اختر صاحب مثال ہیں۔
مولانا بدر اختر صاحب نے ملاقاتی کو آسودہ بھی بہت کیا اور آزردہ بھی۔ آپ کراچی کی ایک بستی گولیمار میں پیتل گلی کی ایک چھوٹی سی ’’مسجد ذکریا‘‘ کے امام اور ’’مدرسہ تعلیمات قرآنیہ‘‘ کے مہتمم ہیں۔ برصغیر کی عظیم الشان علمی سیاسی اور دعوتی تحریک دیوبند سے منسلک۔ دینی مدارس سے فیض یافتہ علماء کرام کس طرح مسجد کو مکتب کا روپ دیتے ہیں مسجد ذکریا ملاحظہ ہو۔ رہائشی مکانات کے بیچ ایک شمع فروزاں۔ کل رقبہ تقریباً سو گز حضرت مفتی سعید احمد صاحب نے 2008ء میں آغاز کیا۔ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں 2002ء سے موجود مدرسہ تعلیمات قرآنیہ کو تب مسجد میں منتقل کردیا۔ اسی مکتب مسجد سے ایک ماہنامہ ’’زاد السعید‘‘ اور مدرسہ میں موجود بچوں کی تخلیقات سے مرصع ’’اُڑان‘‘ بھی شایع ہوتا ہے۔ مسجد کی وسعت سو سے زیادہ طلبہ کی متحمل نہیں ہوسکتی لہذا عصری اور دینی علوم مسجد میں اور شعبہ حفظ ایک دوسری عمارت میں شفٹ کردی گئی۔ یہی صورت بچیوں کی تعلیم میں رہی۔ بنات تعلیمات قرآنیہ کی صورت میں ایک تیسری شاخ بھی برسوں سے کام کررہی ہے۔ گزشتہ برس حیدری فائیو اسٹار چورنگی میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری کردیا گیا۔ چند ہی برسوں میں طلبہ کی تعداد پانچ سو سے زیادہ جن کے تعلیمی رہائشی اور خوراک سے لیکر علاج معالجے تک تمام ضروریات مفت، بلامعاوضہ، ایک باپ کی شفقت کے انداز میں اہل خیر خود ہی آگے بڑھتے ہیں شاذ ہی درخواست کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وہ ماحول کے ظلمت کدے میں اپنے حصے کا دیا روشن کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
تاریکی سے نکل کر روشنی میں اس آسانی سے آجانا جس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھا جاتا ہے۔ انسان کی ہمیشہ آرزو رہی ہے۔ اس مکتب مسجد میں ملاقاتی کو ایسا ہی محسوس ہوا۔ مسجد کے فرش پر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بیٹھے مؤدب طالبعلم۔ عصری علوم میں پہلی جماعت سے کالج کی سطح تک اور دینی علوم میں درس نظامی کی تکمیل تک۔ احترام اور افتخار کی نگاہ کے حامل اساتذہ۔ ہم نے اس انتظام کے پس پردہ موجود شخصیت کی بابت دریافت کیا پتہ چلا مولانا بدر اختر صاحب۔ ملنے کی خواہش ظاہر کی  تو ایک طالبعلم نے جواب دیا،’’آپ مسجد سے ملحقہ فلیٹ میں موجود آفس میں تشریف رکھیں مولانابدر اختر صاحب انگلش کی کلاس لے رہے ہیں‘‘۔ پیریئڈ ختم ہوا تو بدر اختر صاحب تشریف لائے۔ دراز قد، بھرا ہوا جسم اور دوران گفتگو چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ۔ عاجزی اور تواضع۔ بناوٹی خیال پردازی سے پرہیز کرتے ہوئے سادہ گفتگو۔ ہم نے اس حصار علم کی بابت دریافت کیا تو فرمایا یہ سب حضرت مفتی سعید احمد صاحب کی کوششوں اور دعاؤں کا ثمر ہے۔ حضرت مفتی سعید احمد صاحب کے متعلق ہم نے معلوم کیا تو پتہ چلا بہادرآباد مسجد عالمگیر کے امام، دعوت اور علمی وجاہت سے مرسع ایک حجرہ نشین۔ اگر ان کا کوئی سماجی حلقہ ہے تو دینی مدارس کے طالبعلم یا پھر وہ لوگ جو ان سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے اور آدمی سے آدمی بنتا ہے۔
اس وقت 35 لاکھ سے زائد طلبہ طالبات دینی مدارس میں علم حاصل کررہے ہیں جن کے کھانے پینے لباس اور رہنے سہنے کی ذمہ داری بھی ان مدارس کے ذمہ داران پوری کررہے ہیں۔ دینی مدارس حکومتی حوصلہ افزائی کے بغیر حوصلہ شکنی کے ماحول میں چاروں صوبوں میں خواندگی کی شرح میں اضافے کیلئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ اور وسائل سے محروم شہریوں کے بچوں کیلئے مفت تعلیمی کے حصول کا سب سے بڑا سرچشمہ ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری ہے۔ بلاکسی توقف کے۔
اس خطے میں تحریک آزادی کاآغاز دینی مدارس کے بوریا نشینوں نے کیا۔ غیر ملکی غاصب حکمران اپنے اقتدار کے استحکام اور دوام کے راستے میں دینی مدارس کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے اور ان کے خلاف کاروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ مالٹا اور کالاپانی کے جزائر میں جلاوطنی کی سزا کاٹنے والے اکثر دینی مدارس کے وابستگان تھے۔ آزادی کے بعد ہمارے حکمران طبقے نے بھی استعماری آقاؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی مدارس سے دشمنی اور مخاصمت کا رویہ اختیار کیا خصوصاً خطے میں امریکہ کی آمد کے بعد استعماری حکمران دینی مدارس، ان کے طلبہ اور وابستگان کو جدید تہذیب کا باغی قرار دیتے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے ہر طرح کے قطع تعلق کا ماحول پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے جہاد کو دہشتگردی کے مترادف قرار دیا جاتا ہے اور دینی مدارس کو دہشتگردی کا گڑھ۔ پرویز مشرف کے دور میں امریکی اور برطانوی ایماء پر دینی مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور آج بھی امریکا ہمارے حکمرانوں کی مدد سے دینی مدارس کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے۔ پچھلے دنوں حکومت کی طرف سے بلیک لسٹ کئے جانے کے باوجود اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے امریکی عالمی ادارے انٹرنیشنل رسورس کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ اس گروپ سے منسلک افراد ٹیوب ویلز کی صلاحیت بڑھانے کے نام پر بعض شہروں اور گاؤں میں دینی مدارس کے متعلق معلومات اور ڈیٹا جمع کررہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ حکومت مدرسہ تعلیم کو بہتر بنائے اور منضبط کرنے کے لئے اقدامات کرے اور طالب علموں کو کمپیوٹر اور ریاضی جیسے عصری علوم ضرور پڑھائے جائیں۔ یہ مطالبات ان حکومتوں سے کیا جارہا ہے جنہوں نے گورنمنٹ اسکولز کے نظام کو منتشر کرکے رکھ دیا ہے۔ رہی عصری علوم کی بات تو آپ مدرسہ تعلیمات قرآنیہ جیسے ادارے کا وقیع کام ملاحظہ فرمالیجئے آپ کومعلوم ہوجائے گا دینی مدارس عصری علوم کے فروغ کے لئے کیا کام انجام دے رہے ہیں۔ رہا مدارس کو دہشتگردی کے بل میں شامل کرنا تو  اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ یہ انتہائی توہین آمیز اور ناقابل برداشت ہے۔
اموی اور عباسی چلے گئے، مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا خلافت نہ رہی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن چاروں آئمہ کی امامت باقی ہے دینی مدارس نے ان آئمہ اربعہ کی علمی اور تہذیبی روایت کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ زوال کی اس لمحے میں یہ دینی مدارس ہیں جو مسلم شناخت کی بقاء کی علامت ہیں۔
مولانا بدر اختر صاحب نے ملاقاتی کو آسودہ بھی بہت کیا اور آزردہ بھی۔ آزردہ اس لحاظ سے کہ اس عہد کے بدترین ابلاغی جھوٹ کا شکار ہوکر ہم کیوں دنیا کی سب سے بڑی این جی اوز، دینی مدارس سے اتنا عرصہ دور رہے۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

0 comments:

Post a Comment