Friday, January 16, 2015

صلو علیہ وآلہ

چودہ صدیوں کے تاریک اور وشن زمانوں کی قسم! وقت آگیا ہے کہ مغرب ہی نہیں پوری دنیا پر واضح کردیا جائے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرموں کو پناہ نہیں۔ وہ غلاف کعبہ سے لپٹے ہوں تب بھی قتل کردئے جائیں گے، وہ آزادیٔ اظہار کی بد تہذیبی کی پناہ میں ہوں تب بھی قتل کردئے جائیں گے۔ انہیں امان نہیں۔ امان ممکن ہی نہیں۔
مغرب اور سیکولر دنیا نے فکر و نظر کے جو زاویے تخلیق کیے ہیں اس میں ہر کسی پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی مقدس نہیں حتی کہ پیغمبر بھی نہیں۔ جبکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء پر مسلمانوں کی عقیدت تنقید کا ہلکا سا شائبہ بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے نزدیک ہمارے مال، اولاد، والدین اور پیاسے کو جیسے ٹھنڈا پانی محبوب ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ بساط عالم میں کسی کے پاس ایسی مقدس اور قیمتی متاع نہیں مسلمان اس کی حفاظت بھی ایسے ہی جی جان سے کرتے ہیں۔ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے: ’’جب میں مسلمانوں کے درمیان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکرسنتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مسلمانوں کے درمیان ہی تشریف فرماہیں۔ بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی محبت کرتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے‘‘۔ غالب طاعت وزہد پر جن کی طبیعت کم ہی مائل ہوتی تھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں تو رنگ ہی بدل جاتاہے۔
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ داں محمد اوست
اللہ کی بارگاہ میں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا کی فقط وہی ایک ذات پاک ہے جو ان کے مقام اور مرتبہ سے آگاہ ہے۔
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دوران شراب نوشی لینے پر اختر شیرانی نے ایک ادیب کو گلاس کھینچ مارا کہ اس حالت میں آقائے جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہو۔ اقبال مرتبہ عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے جس درجہ پر فائز تھے کلام سے آشکار ہے۔ جب بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک زبان پر آتا آنکھیں شبنم ہوجاتیں۔ ایک طالبعلم نے ’محمد صاحب‘ کہا اقبال غصہ سے کانپنے لگے چہرہ سرخ ہوگیا کہا: ’’میرے آگے سے اسے دور کردو۔ اس نابکار کو میرے آقا و مولا کا نام لینے کی تمیز نہیں‘‘۔
بارگاہ الہی میں عالی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے موتی ہیں جو کتاب مقدس میں بکھرے ہوئے ہیں۔’’وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین۔ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر تمام عالموں کے لئے رحمت بناکر۔ اللہ اور اس کے فرشتے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اپنی طرف سے وہ کچھ نہیں کہتے مگر وہی جو ان پر نازل کیا گیا‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں۔ ایمان نہیں۔ نجات نہیں۔ روشنی نہیں۔ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار مبارک وہ ادب گاہ سانسیں راستہ بھول جائیں۔ کیسے ممکن ہے! کیسے ممکن ہے؟ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر سمجھوتہ کرلیا جائے۔
وہ شہر رب السموات و الارض نے جس کی قسم کھائی کہ ’’اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں اسلئے تم اس میں مقیم ہو‘‘۔ تاہم مکہ ہی وہ بستی تھی جہاں آپ صلی اللہ علیہ کو قتل کرنے کے آرزومند بستے تھے۔جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت شخصیت اور کردار پر بدترین حملے کئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا پھینکا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ بدترین عداوت اور شقاوت مظاہرہ کی گئی۔ لیکن اسی وادیٔ مکہ میں خیر بشر صلی اللہ علیہ وسلم فاتح کی شان سے داخل ہوئے تو ارشاد فرمایا: ’’لا تثریب علیکم الیوم‘‘۔ آج تم سے کوئی باز پرس نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ لڑی، عہد شکنی ارتکاب کی، مرد اور عورتیں۔ لیکن جنہوں نے ہجوگوئی کی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے باب میں رب جلیل کا حکم مختلف تھا۔ انہیں امان نہ دی جائے۔ اپنے محبوب کی توہین مالک کو گوارا نہیں۔ توہین تو درکنار اونچی آواز میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں گفتگو کرے مالک کونین کو برداشت نہیں۔ اذیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اذیت الہی ہے۔ ابن خطل غلاف کعبہ کے پیچھے چھپا تھا رسالت مآب نے حکم دیا ’’اقتلوہ‘‘۔ اسے قتل کردو۔ سارہ اور رقیبہ دو عورتیں گستاخی کی مرتکب تھیں قتل کردی گئیں۔ کعب بن اشرف حضرت محمد بن مسلمہ کی قیادت میں قتل کردیا گیا۔ ایک یہودی عورت توہین کی عادی تھی علی المرتضی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں قتل کردی گئی اور ذات مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کا بدلہ نہیں دلوایا۔ ایک راہب نے سید لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا کہا ’’سامعین نے اسے زندہ کیوں چھوڑا‘‘۔ ایک نصرانی دریدہ دہن تھا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فتوی دیا اسکی گردن اڑادی جائے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم واجب القتل ہے‘‘۔ تمام آئمہ فقہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احم دبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، امام داؤد رحمۃ اللہ علیہ، امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں متفق ہیں بہ خدا عالم اسلام کا رویہ جذباتیت نہیں گہرے اور متوازن غور وفکر کا نتیجہ ہے۔
تمام انبیاء علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفات ہر لحاظ سے جامع اور مکمل ہے۔ کائنات کی ان مقدس ترین ہستیوں کو جامع اور مکمل ہونا ہی تھاکہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں۔ ہر شک وشبہ سے بالاتر۔ پوری انسانیت سے کہا گیا کہ جب ان کا زمانہ پاؤ تو ان کی اتباع کرو ان کامل ترین ہستیوں کی گستاخی کا جو لوگ ارتکاب کرتے ہیں وہ محض کچھ شخصیات کی توہین نہیں کرتے بلکہ خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کے واحد ذریعہ کو غیر معتبر کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ تخلیق اپنا مقصد خود معلوم نہیں کرسکتی۔ اس آگہی کے لئے وہ خالق کی طرف دیکھتی ہے۔ خالق وحی کے ذریعے اپنی مخلوق کو اس کی غایت سے آگاہ کرتا ہے۔ تصور کیجئے اگر وحی اور صاحبان وحی غیر معتبر اور مشکوک قرار دے دئے جائیں تو پھر انسانیت اپنے مقصد زندگی کی دریافت کے لئے کہاں جائے گی۔ وہ کس چراغ سے راہ میں روشنی کرے گی۔ اس لاعلمی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بدحواسی پریشانی اور آشفتگی کی شکار انسانیت ’’پر مسرت زندگی‘‘ اور ’’فطرت کی قوتوں‘‘ کی تسخیر کو اپنا مقصد حیات قرار دے گی۔ زندگی کے اس پست اور حیوانی مقصد کا حاصل یہ برآمد ہوگا کہ وہ اپنے آغاز اور انجام۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔ سے بے خبر ہوجائے گی اور نہ صرف یہ کہ اپنے جسم، اپنی جبلتوں اور حیوانی تقاضوں کی اسیر ہوکر رہ جائے گی۔ وہ کسی بلند مقصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد سے محروم ہوجائے گی۔ کیا یہ کوئی معمولی جرم ہے جس کے مرتکبین کو معاف کردیا جائے۔
انسانیت کی اکثریت کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ایمان کی عمارت عقیدت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ جب کوئی بد طینت ان محترم ہستیوں پر انگلی اٹھاتا ہے۔ مکروہات ان کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ان کے گرد جھوٹ کا جالا بنتا ہے جوکہ انتہائی شاطرانہ انداز سے بُنا جاتا ہے تو انسانوں کی اکثریت اس قیمتی متاع یعنی عقیدت سے محروم ہوسکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ انبیاء اور رسل کی تعلیمات لاپرواہ ہوکر معاشرے کی فاسد قوتوں میں گھر جاتی ہے۔ ایثار محبت اور امن کی حامل قوتوں سے دور ہوکر چھینا جھپٹی اور مفاد پرستی سے رشتہ استوار کرلیتی ہے۔ عبادت الہی کہ مقصد حیات اور غایت اولی ہے اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہتی اور اس کی معاشرت معیشت سیاست انفرادی اور اجتماعی معاملات اور قومی اور بین الاقوامی روابط میں توحید کو مرکزیت حاصل نہیں رہتی۔ لادینیت اور سائنسی فکر کے اس گٹھ جوڑ سے انسان کی اخلاقی زندگی پر بڑے بھیانک نتائج مرتب ہوتے ہیں انسان ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ جبلتوں کے حیوانی تقاضوں کی تکمیل، جنس (sex)، ہر جائز ناجائز طریقے سے دولت کا حصول مقصد زندگی قرار پاتا ہے۔ یوں ایک مادہ پرست سودخور اور اخلاق باختہ تہذیب پرورش پاتی ہے۔ کیا یہ کوئی معمولی جرم ہے جس کے مرتکبین کو معاف کردیا جائے۔
اسلام کے علاوہ دیگربانیان مذاہب اور ان کی تعلیمات کا ہمیں صحیح علم نہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت تاریخ کے ایوانوں میں ہزاروں روشن قمقموں کے درمیان پورے قد سے کھڑی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا کونسا گوشہ ہے انسانیت جس سے آگاہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہمیشہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ ہر عہد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں اضافہ ہوا کمی نہیں ہوئی۔ اللہ تبارک و تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو سارے جہاں سے بلند کیا ہے۔ وہ شخصیت جن کی عظمت کی گواہی چودہ صدیوں کے تاریک اور روشن زمانوں نے دی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت نے دی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور شخصیت پر رکیک حملے کرتا ہے،  بے سروپا کہانیاں گھڑتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے ، مضحکہ خیز خاکے بناتا ہے، علم و تحقیق کے نام پر شرمناک بات کرتا ہے، ہر بری بات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرتا ہے، اہانت رسول اللہ علیہ وسلم کی وہ تاریخ رقم کرتا ہے جو انتہائی گھناؤنی اور شرمناک ہے تو ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا شخص توبہ کرے اور اسے چھوڑ دیا جائے تو پھر دیگر بدبختوں کا معمول بن جائے گا اور یہ سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا چلا جائے گا۔
مغرب دنیائے اسلام سے تصادم کے جس جنون میں مبتلا ہے اس تصادم میں مسلمانوں کی بہ نسبت مغرب کی زیادہ چیزیں خطرے کی زد میں ہیں۔ ہمارے پاس قربان کرنے کے لئے مادی چیزیں کم ہیں، روحانی چیزیں انشاء اللہ اس خطرے سے باہر ہیں۔ مغرب کے پاس جو کچھ ہے اس تصادم میں وہ سب فنا ہو سکتاہے یہی وجہ ہے کہ اسلام کے بارے مغرب کا رویہ مجنونانہ نفرت پر مبنی ہے۔ یہ محض ذہنی نہیں ہے بلکہ اس پر شدید جذباتی رنگ غالب ہے۔ پیرس ملین مارچ میں جس کے رنگ نظر آئے۔ لیکن ایک بات مغرب جتنی جلد سمجھ جائے بہتر ہے۔ وہ یہ کہ ساری دنیا بھی الٹی لٹک جائے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اسلام وہ مذہب نہیں ہے جس کی بنیاد روسو، والٹیئر، لاک، ہابز اور مغربی دساتیر کے مصنفین نے رکھی ہے۔ یہ محسن انسانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہے جن پر خود اللہ اور اللہ کے فرشتے درودوسلام بھیجتے ہیں۔ صلو علیہ وآلہ
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

0 comments:

Post a Comment