Sunday, February 22, 2015

نئے چراغ پرانا سفر

صاحبو! یہ فراق کی ایک گھڑی اور وصال کی پوری رات کا معاملہ تو ہے نہیں کہ موازنہ ممکن نہ ہوسکے کہ کون طویل ہے۔ بقول فیض
وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی
ہجر کی شب ہے تو کیا گراں ٹھہری ہے
اگر دو شاعروں کا موازنہ انیس اور دبیر اور موازنہ سودا و میر ہوسکتا ہے تو دوسیاستدانوں پاکستان کے عمران خان اور بھارت کے کجریوال کا تقابل بھی ممکن ہے۔ کجریوال اس دہلی کے نمائدہ ہیں جس کے ایک محلہ بلی ماراں میں وہ نادر روزگار غالب ، اسد اللہ خان غالب رہتے تھے جن پر غیب سے مضامین آتے تھے۔ منشی جواہر سنگھ کے نام اپنے ایک فارسی خط میں اپنا اور مولوی سید رجب علی کا موازنہ کرتے ہوئے غالب لکھتے ہیں: ’’میری صحبت کا سوائے سلیقہ شعر کا بھلا اور کیا حاصل تھا اور وہ بھی نہ دنیا کے کام کا اور نہ دین کے۔ مولانا سے وابستگی کیوں نہیں رکھتے کہ عقل آئے اور کوئی ہنر سیکھو اور دانش مندی میں کسی مرتبے پر اور دنیا میں کسی حیثیت کو پہنچو‘‘۔
سیاست دانوں کے ضمن میں ہمارا معاملہ یہ ہے کہ سیاستدان پاکستان کے ہوں یا بھارت کے ہمیں ایک ہی جیسے لگتے ہیں اس کھانے کی طرح دوران پرواز جس کے بارے میں جب مسافروں سے پوچھا گیا ’’آپ کیاکھانا پسند کریں گے؟ بھنا ہوا مرغ تلی ہوئی مچھلی یا مرغی کے گوشت کا قورمہ اگر آپ کو کوئی ایک چیز چننے میں مشکل پیش آئے تو فکر نہ کیجئے ان سب کا ذائقہ ایک جیسا ہوتا ہے‘‘۔ لیکن چند ظاہری مماثلتوں کے علاوہ عمران خان اور کجریوال میں کچھ بڑے فرق ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے انتشار ہندوستان میں دہلی کو ہندستان کے عالم اصغر microcosome کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک ایسا ملک جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے موثر عالمی کردار کا بھی خواہاں ہے اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کی خواہش بھی  رکھتا ہے تو اس کے اتنے بڑے تاریخی شہر کے حالات سن کر حیرت ہوتی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں مل کر کئی عشروں سے اس شہر کا صاف پانی کا مسئلہ حل نہیں کرسکے۔ دہلی کی آدھی آبادی جھگیوں اور کچی بستیوں پر مشتمل ہے۔ اگر آپ دہلی کے ریلوے لائن کے ساتھ سفر کریں ان لوگوں کے پست ترین حالات زندگی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اروند کجریوال دہلی کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں اور انہیں حل کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ جس وقت نریندر مودی قیمتی سوٹ میں ملبوس صدر بارک اوبامہ کو چائے پلا رہے تھے وہ سردی کے موسم میں ٹھنڈی پتلون پھٹا ہوا سوئٹر اور سر پر مفلر لپیٹے عوام کے پاس جاتے تھے تو انہیں لوگوں کو قائل کرنے کے لئے کوئی تقریر نہیں کرنی پڑتی تھی جبکہ پچھلے نو ماہ میں نریندر مودی کی حکومتی کارکردگی سے لوگوں میں اس خیال نے تقویت پائی کہ بی جے پی کی حکومت کی پالیسیوں کا مقصد غریبوں کی فلاح نہیں بلکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ نو ماہ میں مودی ایک زبردست اسٹیج پرفارمر کے روپ میں سامنے آئے ہیں جو سامعین کو خواب دکھانے میں مہارت رکھتا ہے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شہر پر بدستور لاقانونیت کا راج رہا۔کرپشن میں اضافہ ہوا اور اوبامہ کی آمد پر ان کا دس ہزار ڈالر مالیت کا لباس لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکتا رہا لہذا دہلی کے عام انتخابات میں کجریوال کی تاریخی کامیابی دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی شرمناک شکست ہے۔
لیکن یہ عام آدمی پارٹی کی کامیابی کا بہت سادہ سا تجزیہ ہے۔ احمد آباد کی ٹرین کے ڈبوں میں چائے بیچنے والے نریندر مودی کی کامیابی دراصل ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کی کامیابی تھی۔ مودی کی الیکشن مہم پر جس طرح روپیہ بہایا گیا وہ ان کے انویسٹرز کی ایک بہت بڑی سرمایہ کاری تھی۔ پچھلے نو ماہ میں مودی اگر ایک طرف غریبوں کے معیار پر پورا نہیں اترے تو دوسری طرف وہ اپنے کامیاب کرانے والے سرمایہ داروں کے اہداف کو پورا کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ کجریوال کی کامیابی ایک طرح مودی کی ڈور کھینچنے اور اسے وعدوں سے جڑے رہنے میں ہی عافیت ہے کی تلقین ہے۔
اروند کجریوال کی کامیابی سے جہاں تک بڑی بڑی امیدیں وابستہ رکھنے کا معاملہ ہے یہ بھی محض فریب نظر ہے کجریوال کی کامیابی اس نظام کی حدود میں مقید ہے جو بھرے ہوئے خزانوں کا رخ غریبوں کی طرف پھیرنے میں نہ صرف ناکام ہے بلکہ یہ اس نظام کے مقاصد میں بھی کہیں دور پرے واسطہ نہیں رکھتے۔ اروند کجریوال کے پاس اس نظام کے توڑ کے لئے نہ کوئی متبادل انتظام ہے نہ پروگرام اور نہ نظام۔ جب بنیادی نظامی ڈھانچہ ہی تبدیل نہیں ہوگا تو سادگی اور نیک خواہشات کہاں تک اور کس حد تک موثر ہوسکیں گی۔ بھارت کے وہ 87 کروڑ بھوکے ننگے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزررہے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ان کے مسائل نہ مودی حل کرسکتا ہے اور نہ کجریوال۔
عمران خان اور کجریوال میں کچھ باتیں مشترک ہیں۔ کجریوال نے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قلعوں کو مسمار کیا ہے تو عمران خان نے بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی چولیں ہلاکر رکھ دیں ہیں۔ کجریوال بھی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف مہم کا استعارہ ہیں دوسری طرف عمران خان بھی پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے چیمپین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کئی باتوں میں عمران کجریوال پر فوقیت رکھتے ہیں۔ کجریوال نے دوسال پہلے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ عمران خان گزشتہ بیس سال سے پاکستانی سیاست میں ہیں۔ کجریوال کی سیاست ایک شہر تک محدود ہے جبکہ عمران خان ملکی سطح کے ایک قد آور رہنما ہیں۔ کجریوال صرف غریبوں میں مقبولیت رکھتے ہیں جبکہ عمران خان امیر اور غریب دونوں طبقوں میں یکساں مقبول ہیں۔
لیکن ایک قدر مشترک جو بھارت میں کجریوال کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے اور پاکستان میں عمران خان کی وہ سرمایہ دارانہ نظام۔ دونوں ہی ممالک کا معاشی نظام جس پر منحصر ہے عمران خان جانتے ہیں کہ یہ نظام دولت کا امیروں کے محلوں میں ارتکاذ کا نظام ہے۔ اس نظام کی حدود میں رہ کر کوئی حکمران خواہ وہ کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو غریبوں کے لئے کچھ نہیں کرسکتا۔ سرمایہ دارنہ نظام انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عمران کو پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کرنا ہوگی اسی میں ان کی اور پاکستان کی فلاح ہے ورنہ ان کی حیثیت نئے چراغ کے روشنی میں سرمایہ داریت کی منزل کی طرف پرانا سفر طے کرنے والے فرد سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

0 comments:

Post a Comment