
بیسویں رمضان کا آفتاب غروب ہوا تو بہت سے لوگوں نے خود کو تنہا گوشوں اور تجلی کے گھیروں میں معتکف کرلیا۔ اعتکاف کیا ہے۔ ذات باری تعالی کی قدر و منزلت سے آگاہ ہونے اور حمد کا تبسم روح پر آویزاں کرنے کی مراد، شب و روز کے سفر میں تزکیہ نفس اور خدا کی حضوری، مسلمانوں کے دین اور تہذیب کا مظہر۔ خیال یار جنہیں آخرشب بے خواب رکھتا ہے انہیں علم ہے تنہائی میں آنسوؤں کے تار کیسے بندھتے ہیں، چشم نم اور سوز دل کیسے اشکبارہوتے ہیں، گناہوں کا احساس کیسے ندامت میں ڈھلتا ہے۔ اور وہ جو ہم سے قریب اور بہت قریب ہے کیسے قلب و روح کے منظر بدلتا ہے اور بندہ بصد نیاز اس کے کرم کو صدا دیتاہے ’’اے وہ بہترین ذات جس کو پکارا جائے اور جو قبولیت سے ہمکنار کرے بدترین گناہوں کی معافی کی امید کے ساتھ میں حاضر ہوں۔ اپنی رحمت عطا فرمائیے‘‘۔ اعتکاف روز و شب کی وہ برگزیدہ ساعتیں ہیں جب بندہ سب کچھ چھوڑکر خود کو وحی کی رم جھم اور مالک عرش بریں کے سپرد کردیتا ہے اور امید رکھتا ہے:
ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت الہی ہے۔ اللہ کی آخری کتاب قرار دیتی ہے۔
’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں‘‘
بندہ عبادت کے قافلہ نور میں شامل ہوتا ہے تو ایک ایسی ذات کا احساس دل میں بیدار ہوتا ہے جس کی قدرت بے کنار اور رحمت بے حساب ہے۔ تب مردہ قلوب زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس مردہ کھیتی کی طرح جو سرسبز ہوجائے۔ انسان اس قائم و دائم کے آگے سربہ سجود ہوتا ہے تو وہ رب کریم دل بینا عطا کرتا ہے۔ باب ہدایت وا ہوجاتے ہیں۔ قرآن کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ صاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی فرمایا کرتے تھے ’’قرآن بہار ہے اور رمضان موسم بہار‘‘۔ اس موسم بہار میں اللہ کی رحمت ساری دنیا کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اس ذات گرامی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے جو سب میں عالی مقام ہیں جن کی درسگاہ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ اہل حرب و سیاست کے لیے بھی اور علم کے پیاسوں کے لیے بھی۔ یہاں سے اہل علم کا ایک ایسا نورانی سلسلہ آغاز ہوتا ہے کہ خلفاء راشدین سے لے کر آئندہ تین صدیوں تک کی عبقری شخصیات کے اسم مبارکہ کا شمار بھی ممکن نہیں۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاشرے میں ہر سو علم کے آفتاب روشن کیے جو لکھنے پڑھنے کے تصور سے بھی ناآشنا تھا۔ ہر طرف جہل کے اندھیرے سماج کی وسعتوں کا احاطہ کیے ہوئے تھے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وہ روشن جماعت جو تاابد کفر و گمراہی کے مقابل کھڑی ہے اس میں نوجوان بھی تھے اور عمر رسیدہ اور ضعیف بھی لیکن کوئی ایسا نہ تھا جو لکھنے پڑھنے سے واقف نہ ہو۔ دوسری طرف عہد حاضر میں تمام تر تحقیقات جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود لوگوں کی کتنی تعداد ہے جو خواندہ ہے۔ صحابہ کرام کی عظیم تعداد محض خواندہ نہیں تھی بلکہ وہ ایمان اور عرفان سے آراستہ بلند پایہ علمی شخصیات تھیں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے مدینے میں بکریاں چرایا کرتے تھے لیکن بعد میں ان کی بدولت کوفہ علم کا مرکز بن گیا۔ مدینے کے کاشتکار اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے قرآن کریم کی سات یا دس قرآتوں کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے۔
عالی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن و حدیث کی تعلیم کا آغاز ایک ایسے چبوترے سے کیا تھا جس کے اوپر چھت بھی نہیں تھی۔ کھانے کا انتظام بس اس قدر کہ لوگ کھجور کے خوشے ایک جگہ آویزاں کردیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام بقدر ضرورت چند کھجوریں تناول فرماکر بقیہ دوسرے کے لیے رہنے دیا کرتے تھے۔ ایک اجڈ معاشرے میں قائم اس درسگاہ سے نابغہ روزگار علماء کرام کی ایسی جماعت تیار ہوئی جو تاابد اطراف عالم میں روشنی پھیلاتی رہے گی۔ رضی اللہ عنہم و رضو عنہ۔ جب تک نسیم سحر چلتی اور شاخیں جھومتی رہیں گی اللہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام ہو۔ آپ دنیا سے کوچ فرماگئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے نظام کی بنیاد پر ہزاروں درسگاہیں قائم ہوئیں جہاں ہزاروں لاکھوں اہل علم تیار ہوئے سینکڑوں ریاستیں وجود میں آئیں بہت سے تہذیبیں آغاز ہوئیں۔ ایک مصنف لکھتے ہیں:
’’محمدی درسگاہ وہ واحد درسگاہ تھی جس نے انسانی کمالات اور صلاحیتوں کو اعلی ترین مقام تک پہنچایا۔ جس نے بھی اس درسگاہ کا رخ کیا اسے اپنی قلبی روحانی، عقلی اور دیگر تمام صلاحیتوں کوممکن ترین حد تک ترقی دینے میں کامیابی ہوئی‘‘۔
جرمن شاعر گوئٹے نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’عالم اسلام میں بڑے بڑے شاعر پیداہوئے لیکن عالم اسلام نے ان میں سے صرف پانچ کو اہمیت دی۔ رومی، حافظ، فردوسی، انوری اور نظامی۔ اور دیگر شعراء کو نظرانداز کردیا۔ حالانکہ ان میں ایسے ایسے ادباء گزرے ہیں کہ میں ان کی باقاعدہ شاگردی کرنے کا خواہشمند ہوں۔‘‘ یہ تمام شعراء خواہ ایرانی ہوں یا عربی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درسگاہ کے شاگرد ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کی درسگاہ کے علم ومعانی سے ہی اکتساب نور کیا ہے۔‘‘
دنیا بھر میں دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ جس طرح دراز سے دراز ترہے وہ دنیا کی مذہبی اور معاشرتی ضرورت ہے۔ یہ مدارس اعلی عمارتوں میں ہوں یا سادہ سی مساجد میں ان میں قرآن وحدیث کے علوم حاصل کرنے والوں کی درسگاہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ساتھ ایک نسبت ہے۔ دین ہم تک اس طرح پہنچا ہے کہ منتخب لوگوں نے زانوئے تلمذ طے کرکے ان اساتذہ سے سیکھا جن کی سند رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی طلب بے حساب ہے۔ تمام تر کاوٹوں کے باوجود۔ کوئی ایسا معاشرہ جس کی 97 فیصد آبادی مسلمان ہو وہ اپنے دینی تشخص کے بارے میں بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔ دینی مدارس پر آج جو الزامات لگائے جارہے ہیں ان کی حقیقت بس اتنی ہے جیسے پتھر پر پڑی مٹی جسے بارش کی چند چھینٹیں بہا لے جائیں۔ لوگ دینی رجحانات کے حامل ہوں یا آزاد خیال اور لبرل، بڑی تعداد اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے بہرہ مند دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان دینی مدارس کا قیام مسلمانوں کی اس سخاوت کا مظہر ہے جو رسالت مآب کی رحمت کا ایک پہلو ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان سال بھر لیکن ماہ رمضان میں بطور خاص اس سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کے بعد اہل پاکستان خصوصا اہل کراچی سب سے زیادہ سخاوت کرتے ہیں۔ اس سخاوت کا بڑا حصہ یقینا دینی مدارس کو جاتا ہے۔ اس برس اپنی اس سخاوت میں جامعۃ السعید کو بھی شامل رکھیے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے پی سی ایچ ایس میں تعمیر ہونے والی اس درسگاہ کے شفاف آئینے جیسے حساب کتاب کے ہم خود معترف ہیں۔ اگر آپ رابطہ کرنا چاہیں تو حضرت مفتی سعید احمد صاحب سے 0321-2303445 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک کے آخری روز و شب ہیں جو اعتکاف میں اور اپنے دل میں ذکر الہی کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف رمضان میں ہی ہم شوق و اشتیاق کے جذبات سے سرشار نہ ہوں بلکہ پورے سال پوری زندگی یہ جذبات ترو تازہ اور شگفتہ رہیں۔ درودوسلام ہوں سیدکونین صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ خوبیوں کی ابتداء اور انتہا دونوں کو آپ نے گھیر لیا ہے۔ جس طرح چاہتے ہیں سخاوت پر آپ حکمرانی کرتے ہیں۔ آپ کے نور وحی اور مکتب فکر سے فراست اور فیصلے اخذ کرنے والے ہی نجات دہندہ ہیں۔ وہی ہیں جن کے دروازے پر دنیا دست بستہ کھڑی رہتی ہے۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
0 comments:
Post a Comment