Showing posts with label یمن. Show all posts
Showing posts with label یمن. Show all posts

Saturday, May 2, 2015

بساط یمن اور عالمی کھلاڑی


یمن کی بساط پر چھوٹے بڑے قدم اٹھاتے شطرنج کے مہروں کی بجائے آئیے معاملے کو اصل کھلاڑیوں یعنی عالمی طاقتوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
جمعرات کی صبح 26 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل انجبیر نے یمن کے حوثیوں کے خلاف عسکری آپریشن کا اعلان کیا۔ فضائی کاروائیوں میں حصہ لینے والا اتحاد دس ممالک پر مشتمل ہے جس میں عمان کے سوا تمام خلیجی ممالک شامل ہیں۔
پاکستان بھی سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے دوش بدوش ہے۔ مصر اور سوڈان بھی ان حملوں میں شریک ہیں لیکن اس بساط کے اصل فریق دو ہیں امریکہ اور برطانیہ۔ انتہائی چالاکی اور مکاری سے سیاسی چالیں چلنے میں برطانیہ اپنی مثال آپ ہے۔ امریکی بھی مہارت سے چالیں چلتے ہیں لیکن جب وہ ان چالوں کے باوجود اپنی شکست دیکھتے ہیں تو ان کا طرز عمل انگلستان کے شاہ ولیم کی طرح ہوجاتا ہے۔ شاہ ولیم شطرنج کا اچھا کھلاڑی تھا۔ ایک مرتبہ تمام تر سوچ بچار کے باوجود جب وہ بازی ہارنے لگا تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ لکڑی کی بھاری بساط  جیتنے والے کے سر پر دے ماری جس سے اس کی فوری موت واقع ہوگئی۔
یمن کئی دہائیوں سے برطانوی ایجنٹ حکمرانوں کے زیرتسلط رہا ہے۔ علی عبداللہ صالح 33 برس یمن کے صدر رہے۔ وہ ہمیشہ برطانیہ کے زیر اثر اور برطانیہ کے اشاروں پر کام کرتے رہے۔ وہ ایک جابر اور کرپٹ حکمران تھے۔ عرب بہار کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ امریکہ نے جب حوثی قبائل کے ذریعے یمن میں اپنی بالادستی قائم کرنا شروع کی تو برطانیہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کا عسکری طور پر مقابلہ کرسکے۔ ساتھ ہی برطانیہ یہ بھی چاہتا تھا کہ طاقت کے کسی اہم مرکز پر امریکی قابض نہ ہوسکیں۔ برطانیہ نے دو خطوط پر کام شروع کیا۔ اول: برطانیہ نے منصور ہادی کو گائیڈ لائن دی کہ وہ حوثیوں کو موثر اقتدار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اپنے عہدے کا بھرپور استعمال کرے۔ منصور ہادی، علی عبداللہ صالح کے بعدصدر بنے تھے اور صالح سے بڑھ کر برطانوی ایجنٹ تھے۔ حوثیوں نے صدر ہادی پر زور ڈالا کہ وہ ان کے مرضی کے قوانین منطور کرے۔ صدر ہادی نے ان قوانین کے نفاذ پر حوثیوں کے ساتھ اتفاق کیا لیکن وہ ان معاہدوں اور قوانین کو عملی جامہ پہنانے میں ٹال مٹول کرتے رہے۔ یہ کھیل جاری رہا۔ ایک وقت وہ آگیا جب حوثیوں نے صدر ہادی کو ان کے گھر میں قید کردیا اور ان پر دباؤ میں انتہائی اضافہ کردیا اور تمام معاہدوں کو نافذ کرنے پر زور دیا۔ اس مرحلے پر صدر ہادی نے استعفی دے کر حوثیوں کو  نہ صرف حیران بلکہ مشکل صورتحال سے دوچار کردیا۔ ملک کے طول و عرض میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ حوثی جو صدارتی فیصلوں کے ذریعے بالادستی حاصل کرنا چاہتے تھے جس سے بغاوت یا انقلاب کی چھاپ لگے بغیر ان کو اقتدار مل جاتا اب ان پر بغاوت کی چھاپ لگ گئی۔ صدر ہادی صنعا سے عدن اور وہاں سے ریاض پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
دوم برطانیہ نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو حوثیوں سے تعلق استوار کرنے کی حکمت عملی دی حالانکہ وہ اپنے دوراقتدار میں حوثیوں سے بہت سختی سے پیش آئے تھے۔ بہرحال عبداللہ صالح نے حوثیوں کو اس مرحلے پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ ان کے پاس گئے ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور طاقت کے ذریعے حوثیوں کی اس قدر مدد کی کہ حوثیوں کے لیے ان سے جدا ہونا ممکن نہ رہا۔ انہوں نے حوثیوں سے بڑھ کر صدر ہادی کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ دوسری طرف بی بی سی کے عرب ایڈیشن الجزیرہ نے ایسے پروگرام نشر کرنا شروع کردیے جن میں اس نکتہ پر زور دیا گیا کہ کل تک حوثی کرپشن اور کرپٹ لوگوں کے خلاف جنگ کی بات کرتے تھے لیکن اب کرپشن کے بے تاج بادشاہ علی عبداللہ کے اتحادی ہیں۔
بساط یمن پر برطانیہ کی چالیں اس کی مکاری اور مہارت کی دلیل ہیں۔ اگر سعودی یمن پر حملوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو منصور ہادی کی شکل میں برطانیہ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کے مراکز میں موجود رہے گا۔ برطانیہ بظاہر امریکہ کا شریک ہے، امریکہ کے ہم قدم متحرک بھی نظر آتا ہے تاکہ معاملات مذاکرات تک پہنچیں تو اس کا بھی کردار ہو اور جو بھی حل سامنے آئے طاقت کے مرکز میں اس کا اثر رسوخ موجود رہے۔ اسی طرح اگر حوثی کامیاب ہوتے ہیں تو علی عبداللہ صالح ان کے ساتھ اقتدار میں حصہ دار ہوگا۔اس صورت بھی برطانیہ کا یمن میں اثر نفوذ باقی رہے گا۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ حوثیوں کو اتنی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کہ وہ یمن میں اکیلے حکومت کرسکیں۔
امریکہ عرصے سے یمن میں برطانوی رسوخ کے خاتمے اور اپنی بالادستی کا خواہاں رہا ہے۔ سیاستدانوں اور فوج میں اسے وسیع پیمانے پر ایجنٹ دستیاب نہ ہوسکے امریکہ نے ایران کی مدد سے حوثیوں کو مسلح کرنا شروع کردیا۔ حوثی اس قدر طاقتور ہوگئے کہ انہوں نے صدر ہادی کا محاصرہ کرلیا لیکن صدر ہادی کے استعفی نے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔ حوثیوں سے بڑی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے اپنی قوت کو پورے یمن میں پھیلادیا۔ جس کے نتیجے میں نہ تو وہ مکمل طور پر اپنی بالادستی قائم کرسکے اور نہ ہی وہ شمال میں اپنے مرکز کی طرف واپس جاسکتے تھے۔ امریکہ حوثیوں کو اس صورتحال سے نکالنا چاہتا تھا لہذا جب سعودی حوثیوں سے پریشان ہوئے یا جب سعودیوں کو اس طرح کی اطلاعات فراہم کی گئیں کہ حوثیوں کا اگلا ہدف سعودی حکمران ہوں گے تو سعودیوں کے رجوع کرنے پر امریکہ نے نہ صرف حملے کی تائید کہ بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ صورتحال مزید اس وقت واضح ہوئی کہ جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے عسکری کاروائی سے قبل امریکہ سے مشاورت کی تھی۔ سعودی عرب کے فضائی حملوں کا حوثیوں کو فائدہ یہ ہوا کہ کل تک دنیا حوثیوں کو ظالم کی نظر سے دیکھتی تھی فضائی حملوں کے بعد ان کے مظلوم ہونے کا تاثر ابھرا۔ دوسرے امکان یہ ہے کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں سعودی کوئی فیصلہ کن برتری حاصل نہ کرسکیں گے۔ نتیجتاً ایک بحران پیدا ہوگا اور معاملہ مذکرات کی میز تک پہنچیں گے۔یہی وہ صورت ہے جو امریکہ کو مطلوب ہے۔ یہی وہ طریقہ کار ہے کہ جب امریکہ طاقت کے ذریعے مفاد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو معاملات کو مذاکرات کی میز پر لے آتا ہے۔
مذاکرات کی میز سرمایہ داروں کا مخصوص طریقہ کارہے۔ یعنی درمیان کا راستہ نکالنا یا حکومت میں فریقین کی باہمی شرکت۔لیکن یہ مستقل حل نہیں ہوتا بلکہ ایک مہلت عمل ہے۔ سانس لینے کا وقفہ، جب تک برطانیہ یا امریکہ میں سے کوئی ایک مکمل غلبہ اور برتری حاصل نہ کرلے۔ سو مستقبل میں یمن کے حالات نشیب و فراز کا شکار رہیں گے۔ جنگ کی آگ بھڑکتی اور کم ہوتی رہے گی جب تک سیاسی اور عسکری توازن فیصلہ کن نہ ہوجائے۔ امریکہ اور برطانیہ میں سے کوئی ایک یمن پر عملی بالادستی قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوجائے۔ یمن ایک مستحکم اور خوشحال ملک تھا۔ اب یمن پھر کب ایک مستحکم خوشحال اور پرامن ملک ہوگا اللہ رب العزت ہی جانتے ہیں۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
مزید پڑھیں

Thursday, April 9, 2015

فیصلہ کن طوفان اور پاکستان


26 مارچ کو یمن پر سعودی اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے بعد وزیراعظم نوازشریف کا وہ بیان جس پر بعض حلقوں کی جانب سے بہت لے دے کی گئی ہے، بہت مناسب حسب حال اور اہل پاکستان کے جذبات کا آئینہ دار تھا جس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ’’پاکستان سعودی عرب کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فرنٹ پر کرے گا‘‘۔
یہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا متفقہ فیصلہ تھا۔ جو لوگ اس فیصلے پر معترض ہیں وہ بتائیں آخر ایسا کون سا نظریہ اور عمل ہے جو  ایک ایسے دوست کی مدد میں مانع ہے جو ہر آڑے وقت میں نہایت گرم جوشی سے پاکستان کی مدد کو آتا رہا ہو۔ یہ سادگی کی انتہا ہے اگر یہ باور کیا جائے کہ یمن پر حوثیوں کے قبضہ سے سعودی عرب کی سلامتی کو براہ راست کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ حوثی سعودی عرب کے تین صوبوں کو یمن کا حصہ قرار دیتے ہیں اور اس کے دعویدار ہیں۔ وہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کی طرف پیش قدمی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں اور وہاں اپنا طرز عبادت رائج کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پاک سعودی عرب دوستی کے عملی اظہار کا وقت ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کی ہمیشہ غیر مشروط مدد کی ہے۔ اب جبکہ سعودی عرب نے کھل کر ہم سے مدد طلب کی ہے ہم مصلحتوں کا لبادہ اوڑھ لیں؟
جب نوازحکومت زیرگردش قرضوں کے معاملے میں پریشان تھی تو یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کو خاموشی سے  1.5 بلین ڈالر بطور ایڈوانس دیے جس سے پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر سنبھل گئی تھی۔ خلیجی ممالک میں چالیس لاکھ پاکستانی روزگار کماتے ہیں۔ پاکستانی ہر سال سعودی عرب سے تین ارب ڈالر سے زائد رقم بھیجتے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان کو پابندیوں کا سامنا تھا، سعودی عرب ایک عرصے تک پاکستان کو مفت تیل فراہم کرتا رہا۔ جس ایٹمی پروگرام پر ہم بہت نازاں ہیں اس کے اخراجات بڑی حد تک سعودی عرب نے برداشت کیے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اس وقت کے سعودی ولی عہد نے شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے جب ایک صحافی نے پوچھا ’’آپ نے پاکستان کی مدد کیسے کی؟‘‘ ولی عہد نے ایک لمحہ توقف کے بغیر جواب دیا ’’ہم نے پاکستان کی مدد ایسے کی ہے جیسے ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے‘‘۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اخوت اور باہمی اعتماد کی علامت تھی کہ شہزادہ عبداللہ ہی وہ واحد مہمان تھے جن کو کہوٹا ایٹمی پلانٹ کا دورہ کرایا گیا تھا۔ جس پر مغربی صحافیوں نے پاکستان کو ’’سعودی عرب کے باہر سعودی عرب کا نیوکلیئر بم‘‘ قرار دیا تھا۔ پاکستان سعودی عرب کی مدد کرتا ہے تو یہ اخلاقی طور پر غلط ہوگا اور نہ کسی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ہوگا۔ یہ بات یاد رہے کہ ہمارا گوادر پورٹ کا منصوبہ اور چین کے ساتھ راہ داری کا معاملہ بھی خلیج کے پانیوں کے تلاطم سے وابستہ ہے۔
بطور ریاست بھی پاکستان کا مفاد سعودی عرب کا ساتھ دینے کا تقاضہ کرتا ہے۔ 1990ء میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن چیف آف دی آرمی اسٹاف مرزا اسلم بیگ صدام حسین کی قوت مزاحمت سے متاثر تھے۔ محترم قاضی حسین احمد نے صدام حسین کو صلاح الدین ایوبی قراردیا تھا۔ مولانا نورانی مرحوم و مغفور نے انکشاف کیا تھا کہ صدام حسین گیارہویں کرتا ہے۔ یوں فضا سعودی عرب کے خلاف ہموار ہوگئی۔ مصر نے سعودی عرب اور اتحادی افواج کا ساتھ دے کر نہ صرف ھق دوستی ادا کیا بلکہ 12 ارب ڈالر کے قرضے بھی معاف کرالیے تھے جبکہ ہمارے حصہ میں سوائے ندامت اور شرمندگی کچھ نہ آیا۔
پاکستان کا مفاد خطہ میں امن اور طاقت کے توازن میں ہے۔ خطہ میں ایران اور سعودی عرب دو بڑی طاقتیں اور برادر مسلم ملک ہیں لیکن باہم متصادم۔ ایران مشرق وسطی میں اپنے اثرات میں توسیع کررہاہے۔ شام عراق اور لبنان ایران کے دائرہ اثر میں ہیں۔ یمن میں بھی ایران حوثیوں کی شکل میں حصول اقتدار کے مرحلے تک آپہنچا ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی کے مشیر علی یونس نے گزشتہ دنوں کہا تھا ’’ایران ایک عظیم سلطنت بن چکا ہے۔ اب دارالحکومت بغداد ہوگا۔ سارا مشرق وسطی ہمارا ہے۔‘‘ ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ علی شیخانی نے کہا تھا ’’ہم یمن کے باب المندب اور بحیرہ روم کے دہانے پر کھڑے ہیں یعنی ایک جانب شام کے ساحل پر ہیں تو دوسری طرف یمن کے سمندری راستے پر بیٹھے ہیں یوں پوری دنیا ہماری محتاج ہے‘‘۔ یہ صورتحال سعودی عرب کے لیے تشویش کا باعث تھی لیکن ایٹمی ممالک اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے نے اس تشویش میں اضافہ کیا۔یمن پر قبضہ کی صورت میں ایران جس طرح بالواسطہ طور پر سعودی عرب کی سرحدوں تک آپہنچا ہے یہ خطہ میں طاقت کے توازن اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے جو یمن پر سعودی عرب کے حملوں کا سبب بنی ہے جس کے بعد سعودی عرب نے کھل کر پاکستان سے بھی مدد کی درخواست کی ہے۔ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے جس کا انتہائی مثبت جواب دیا ہے۔ ایسا ہی جواب پاک سعودی عرب دوستی کا تقاضہ تھا۔
تاہم سعودی عرب سے دوستی کا ایک طریقہ اور بھی ہے۔ وہ ہے سعودی عرب کو اس جنگ سے باہر نکالنا یعنی مسئلہ کا سیاسی حل۔ ترکی اور پاکستان مل کر اس سلسلہ میں کوششیں کررہے ہیں۔ جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو گزشتہ تین برسوں سے ایران اور ترکی کے تعلقات خراب ہیں۔ ترکی شام میں اپوزیشن کی حمایت کرتا ہے جبکہ ایران بشار الاسد حکومت کا دیرینہ دوست ہے۔ عراق کی وجہ سے بھی ایران اور ترکی کے تعلقات بگاڑ کا شکار رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود ترکی کے صدر طیب اردگان نے ایران جاکر صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔ لیکن اس کے امکان کم ہیں کہ ترکی ایران  پر کوئی فیصلہ کن دباؤ ڈال سکے۔ پاکستان اور ایران کا معاملہ یہ ہے کہ ایران کا ہمیشہ پاکستان کی نسبت بھارت کی طرف جھکاؤ رہا ہے۔ ایران ذرائع ابلاغ میں شاذ ہی پاکستان کے حوالے سے کبھی کوئی کلمہ خیر کہا گیا ہو۔ لیکن ایران ایٹمی ممالک معاہدے اور ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستان ایران اور چین کے درمیان گیس پائپ لائن کے حوالے ایسا تعلق قائم ہوسکتا ہے جس کے بعد تینوں ممالک کی خوشحالی ایک دوسرے سے مربوط ہوجائے۔ اس حوالے سے ممکن ہے پاکستان ایران پر اثر انداز ہوسکے۔ ایرانی وزیرخارجہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یمن میں مخالف گروپس کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرے گا۔ وہ ان گروپس پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے گا جو تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ایسے بیانات محض سفارتی تکلفات ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگلے ہی جملے میں ایران نے اپنی عدم صلاحیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ حوثی قبائل کو ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا ‘‘۔
فریقین پر  اگر کوئی اثر انداز ہوسکتا ہے تو وہ امریکہ ہے۔ لیکن امریکہ اس جنگ کا تخلیق کار ہے جس کا مفاد اس جنگ کی طوالت میں ہے۔ اس جنگ کے بعد امریکہ نے خلیجی ممالک کو اسلحے کی ترسیل میں زبردست اضافہ کردیاہے۔ پاکستان کو بھی جدید اسلحہ کی فروخت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایران اور حوثیوں کو ماضی کی طرح اسرائیل یا کسی اور ذریعہ سے اسلحہ کی فراہمی شروع کی جاسکتی ہے۔ نہ جانے کب امریکی حکمت عملیوں کا جنہیں ہم سازش کہتے ہیں مسلم ممالک ادراک کرسکیں گے۔ بہرحال کالم چونکہ پاکستان کے حوالے سے ہے تو پاکستان سعودی عرب سے دوستی کے حوالے صحیح خطوط پر کام کرتے ہوئے ایک طرف سعودی عرب کی فوجی امداد کی درخواست پر پورا اترنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف سفارتی سطح پر بھی مسلم ممالک سے رابطوں میں اضافہ کررہاہے۔ ایرانی وزیرخارجہ، مصری افواج کے کمانڈر انچیف اور وزیردفاع کا دورہ اسی پیشرفت کا حصہ ہے۔
کہا جارہاہے کہ اس جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کی ایک قیمت ہے جو پاکستان کو سماجی سطح پر بھی ادا کرنی ہوگی۔ پاکستان میں کچھ گروہ خود کو سعودی فقہی مسلک اور کچھ خود کو ایرانی فقہی مسلک کے قریب سمجھتے ہیں لیکن عالمی سطح پر ایران اور سعودی عرب شیعہ سنی بنیاد پر حکمت عملی طے نہیں کرتے۔ چند ماہ پہلے سعودی عرب نے لبنان میں ایران کی تنظیم حزب اللہ کو 1.5 ارب ڈالر شام میں اسلامی حکومت کو روکنے کے لیے دیے تھے۔ اخوان المسلمین کا تختہ الٹنے پر مصر کے جنرل السیسی کو پانچ ارب ڈالر دیے تھے۔ ایران نے افغانستان عراق اور شام میں امریکی ایماء پر ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا۔ یہاں تک کہ نجف اور کربلا میں ان شیعہ علماء کو قتل کیا جو امریکی مداخلت کے خلاف تھے۔ پاکستان میں کچھ لوگ سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے خود کو تقسیم ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی سطح کے برعکس سعودی عرب پاکستان میں ایک مکتب فکر کی مدد کرتا رہاہے جبکہ ایران بھی کچھ گروہوں کو روپیہ فراہم کرتا رہاہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کی ساخت ایسی ہے کہ مسلکی اختلافات ایک محدود دائرہ میں تو نطر آتے ہیں لیکن عوام میں دور دور تک ان اختلافات کے حوالے سے شدت پسندی نطر نہیں آتی۔ اے کاش یہ شدت پسندی ایران اور سعودی عرب تعلقات سے بھی ختم ہوجائے اور عالم اسلام کے دو عظیم ملک ایک دوسرے کے دوست بن سکیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ ہمیں سعودی عرب کو بھی مایوس نہیں کرنا ہے اور جنگ کے شعلوں کو بھی بجھانا ہے۔ بہتر ہے خطہ میں امن اور ایران سعودی عرب نفرت کے خاتمے کا آغاز یمن سے کیا جائے
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
مزید پڑھیں

Sunday, April 5, 2015

فیصلہ کن طوفان


یمن کی موجودہ صورتحال عالم اسلام کی ماند پڑتی روشنی کا بیانیہ ہے۔ اس مہم کو Operation Decisive Storm یا Al Hazm Storm بمعنی فیصلہ کن طوفان کا نام دیا گیا ہے، جسے سمجھنے کے لیے چند بنیادی نکات سے آگاہی ضروری ہے۔
۔۔۔ یمن مغربی ایشیاء میں واقع مشرق وسطی کا ایک مسلم ملک ہے۔ اس کے شمال اور مشرق میں سعودی عرب اور اومان ہیں اور جنوب میں بحرہ عرب اور بحرہ احمر ہیں۔ دارلحکومت صنعاء ہے۔ قومی زبان عربی، آبادی دوکروڑ سے زیادہ۔ ستر فیصد آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ بیس فیصد آبادی زیدی شیعہ ہیں جبکہ حوثی کل آبادی کا پانچ فیصد بھی نہیں ہیں۔ معاشرہ قبائلی نسلی فرقہ اور علاقائی بنیاد پر منقسم ہے۔
۔۔۔ 1990ء میں کویت پر صدام حسین کے قبضہ کے وقت یمن نے صدام حسین کا ساتھ دیا۔ ردعمل میں سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے یمن کی اقتصادی امداد میں کمی اور شہریوں کو اپنے ہاں سے نکال دیا تھا۔ جسکی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور بیروزگاری کی وجہ سے یمن میں عرب حکومتوں کے خلاف جذبات پیدا ہوئے جسکا فائدہ ایران نے اٹھایا۔ اسی برس فن خطابت میں بے پناہ حسین بدرالدین حوثی نے ایران کے تعاون سے ’’شباب المومنین‘‘ نامی تنظیم قائم کی۔ چودہ سال کی محنت اور ایران سے حاصل بے پناہ وسائل اور عسکری قوت کے زور پر بدرالدین حوثی نے 2004ء میں سعودی سرحد سے متصل صوبے صعدہ میں پہلی حوثی بغاوت کی۔ بغاوت ناکام رہی۔ بدرالدین حوثی رفقاء کے ساتھ ماراگیا۔ اس وقت یمن پر زیدی فرقہ کے علی عبداللہ صالح کی حکومت تھی۔ بدرالدین کے بعد قیادت اس کے بھائی عبداللہ المالک حوثی کے پاس آگئی جس نے زیدی شیعوں سے تعلق ختم کرکے صرف اثناء اشعری کو الحوثی تحریک میں شامل کیا جس میں اکثریت حوثی قبیلے کے افراد کی ہے۔
جس وقت قیادت عبدالمالک الحوثی کے پاس آئی، القاعدہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے پریشان امریکہ اور مغربی ممالک نے حوثی تحریک کو القاعدہ سے مقابلے کے لیے منتخب کیا۔ یوں حوثی تحریک کو بیک وقت ایران، امریکہ اور مغربی ممالک کی مالی اور فوجی طاقت حاصل ہوگئی۔ امریکہ کی سرپرستی کی وجہ سے سعودی عرب نے بھی اس کی سرگرمیوں سے چشم پوشی اختیار کی۔
عرب بہار کے نتیجے میں علی عبدللہ الصالح کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ شافعی مسلک سے وابستہ منصور ہادی صدر اور وزیراعظم کا طاقتور عہدہ اخوان المسلمین کے پاس آیا۔ اخوان المسلمین سے امریکہ اور مغربی طاقتیں سب خائف تھیں۔ لہذا یمن کی امداد بند کردی گئی اور ساتھ ہی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یمن پر اہلسنت کا قبضہ ہوگیا۔ عبدالمالک حوثی کی قیادت اور ایرانی عسکری ماہرین کی رہنمائی میں حوثی افواج نے پیش قدمی شروع کردی اور دارالحکومت صنعاء پر قابض ہوگئے۔ چن چن کر اخوان المسلمین کے وابستگان کو قتل کرنا شروع کردیا۔ اس لیے یورپی اور خلیجی حکومتوں نے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وزارت دفاع، داخلہ فوجی مراکز سمیت دارالحکومت کے تمام اہم مقامات پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد حوثیوں نے عدن کو محاصرہ میں لے لیا۔ یہی وہ وقت تھا جب سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف حملہ کا آغاز کیا۔
۔۔۔ اس جنگ میں ایران کا کردار بہت اہم ہے۔ یہ ایران ہے جس نے حوثیوں کو مسلح کیا۔ شباب المومنین کے ارکان کو  ایران کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا تھا، جہاں وہ عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ مالی تعاون اور عسکری تربیت حاصل کرکے خمینی کے سپاہی بن کر واپس آتے تھے۔ حوثیوں نے صنعا ء پر قبضہ کے بعد تہران اور صنعاء کے درمیان براہ راست پروازوں کا معاہدہ کیا۔ اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامناای کے خصوصی ایلچی نے کہا ’’حوثی گروہ انصاراللہ، لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک نئی شکل ہے جو یمن میں کامیابی کے بعد اسلام دشمنوں کے خلاف ایک نیا محاذ شروع کریگا۔‘‘ یوں ایران نے نہ صرف کھل کر حوثیوں وابستگی کا اعلان کردیا بلکہ حزب اللہ نے حوثیوں کی مدد بھی شروع کردی۔ ایران کے دفتر خارجہ نے سعودی عرب کو براہ راست تنبیہ کرتے ہوئے کہا ’’سعودی عرب اس لڑائی سے اپنے آپ کو دور رکھے ورنہ سعودی عرب بھی اس جنگ کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔‘‘ علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو شام، لبنان اور عراق کی حکومتیں بڑی حد تک ایران کی تابع ہیں۔ اس وقت ان علاقوں میں ایران کی افواج کی تعداد 30 ہزار ہے۔ یمن کے سمندری علاقوں میں بھی ایرانی کشتیاں پہنچ چکی ہیں۔ موجودہ تاریخ میں یہ ایران کی بہت بڑی پیش قدمی ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر سعودی عرب کی سرحدوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے قبضہ کے بعد ایران اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ یمن میں ایک خود مختار علاقے، شام میں بشارالاسد کی حکومت کوبرقرار رکھنے اور بحرین میں شیعہ حکومت کے قیام کے لیے سودے بازی کرسکے۔
۔۔۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو یمن سعودی عرب کا افغانستان ہے۔ سعودی عرب کی اٹھارہ سو کلومیٹر سرحد یمن کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ سرحد مسامدار ہے جہاں یمن اور سعودی عرب کے مابین باآسانی نقل و حرکت ممکن ہے۔ کنٹرول ممکن نہیں۔ چند برس پہلے اس سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ یمن میں سعودی عرب مخالف حکومت کے قیام کا مطلب ہے سعودی عرب میں مستقل مداخلت۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حوثی یمن کے علاوہ سعودی عرب کے تین صوبوں نجران، جازان اور عسیر کو یمن کا حصہ قرار دیتے ہیں اور دوبارہ قبضہ کے دعویدار ہیں۔ یوں حوثی مستقبل میں سعودی عرب کے لیے مستقل دردسر بن سکتے ہیں۔ یہ وہ صورتحال جو سعودی عرب کے چھبیس مارچ کو یمن پر فضائی حملوں کا سبب بنی۔ چنانچہ سعودی عرب نے اپنے فطری اتحادیوں، خلیجی ریاستوں کے ساتھ میدان جنگ گرم کردیا۔ متحدہ عرب امارات سال ہا سال سے ایران سے اپنے تین جزائر ’’طنب صغیر، طنب کبیر اور جزائر ابو موسی‘‘ کی واپسی کی کوشش کررہاہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ یہ اس کے جزیرے ہیں جن پر ایران نے قبضہ کررکھا ہے۔ وہاں فوجی اڈے بنارکھے ہیں جہاں سے امارات کے خلاف کاروائی کرنا بہت آسان ہے۔ بہرحال ایک طرف جہاں سعودی عرب میں خلفشار پورے خطے کو متاثر کرسکتا ہے تو دوسری طرف ایران سعودی عرب براہ راست تصادم پورے مشرق وسطی کو تباہ کرسکتا ہے۔
۔۔۔ اور آخر میں اس بربادی کا تخلیق کنندہ بدمعاش امریکہ۔ یمن کی جنگ امریکی حکمت عملی کا شاہکار ہے۔ جس میں تمام متحارب فریق امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ سعودی عرب ہو ایران یا حوثی سب کے ہاتھوں میں امریکہ سے حاصل کردہ ہتھیار ہیں سب امریکہ کی سرپرستی میں اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ فاتح کوئی بھی ہو فتح کے ثمرات بالآخر امریکہ کی جھولی میں گریں گے۔
یمن میں امریکہ کی ابتدائی دلچسپی برطانوی اثرات کے خاتمے تک محدود تھی۔ یمن میں اقتدار ہمیشہ برطانوی ایجنٹوں کے پاس رہا۔ جیسے علی عبداللہ صالح اور ہادی وغیرہ۔ امریکہ کو یمن کی فوج اور سیاست دانوں میں ایسے آلہ کار بڑی تعداد میں نہیں ملے جو امریکی ایجنٹوں کا کردار ادا کرسکیں۔ اس لیے امریکہ نے حوثی قبیلے کو مسلح کرنا شروع کردیا اور اس کام کے لیے ایرانی حکومت کو استعمال کیا۔ عراق اور شام میں امریکہ کی مداخلت اور لاکھوں مسلمانوں کی بے دردی سے ہلاکت میں ایران، امریکہ کے سہولت کار کا کردار اداکرتا رہا ہے۔ بظاہر دشمنی کے باوجود ایران اور امریکہ ایک دورسرے کے بہت قریب رہے ہیں۔ یہ امریکہ ہے جس نے اسرائیل کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے سختی سے روکا ہواہے۔ ایک طرف امریکہ سعودی عرب کا حلیف ہے اور دوسری طرف سعودی تشویش کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران سے سمجھوتہ کررہاہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران امریکہ سمجھوتے نے سعودی عرب کو یمن پر حملہ پر اکسایا۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے امریکہ ایران معاہدہ سعودی عربکے لیے آشفتگی اور بدحواسی کا سبب بنا ہے۔ جس کی تالیف کے لیے امریکہ نے شاہ سلمان کو امریکہ مدعو کیا۔ سعودی عرب خطہ میں امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی کا کردار ادا کرتا رہاہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد 1973ء کا وہ معاہدہ ہے جس کے تحت تیل کی قیمتوں کا تعین امریکی ڈالروں میں ہوتا ہے، اس کے عوض امریکہ سعودی عرب کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ یہ امریکہ کا تعاون اور آشیرباد ہے کہ سعودی عرب یمن پر حملہ آور ہے۔ امریکہ ایک طرف سعودی عرب کے دشمنوں کو بے تحاشہ اسلحہ اور مدد فراہم کررہاہے دوسری طرف وائٹ ہاؤس یہ بیان جاری کررہاہے ’’حالانکہ ہم براہ راست فوجی مہم میں حصہ نہیں لے رہے لیکن ہم ایک مشترکہ منصوبہ بندی سیل کا قیام سعودی عرب کے ساتھ کررہے ہیں تاکہ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس سپورٹ ان کو دی جاسکے۔‘‘ سعودی عرب کے حملوں کے بعد امریکہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرکے مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جاسکے تاکہ امریکہ یمن میں اپنا فارمولا اور سیٹ اپ مسلط کرسکے۔ امریکہ کسی کے ساتھ نہیں، لیکن سب کے ساتھ ہے۔ زوال کے اس سفر میں امریکہ تمام فریقوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اس سفر میں پاکستان کا کردار انشاء اللہ اگلی نشست میں۔
٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭
مزید پڑھیں